بھارتی صحافی کے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ بھارت مہذب پڑوسی بن کر رہے۔

اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نے بدامنی سے متعلق سوال پر بھارتی صحافی کو کرارا جواب دے دیا ۔ بھارتی صحافی نے تاشقند میں وزیراعظم سے سوال کیا کہ بدامنی اور بات چیت دونوں ایک ساتھ چل سکتی ہیں؟جس پر وزیراعظم نے کہا کہ اتنی دیر سےکوشش کر رہے ہیں، بھارت مہذب پڑوسی بن کر رہے۔

 

 

Advertisement

لیکن کریں کیا انتہا پسند آر ایس ایس کا نظریہ راستے میں آ گیا ہے ۔ قبل ازیں عمران خان نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک نے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پاکستان سے زیادہ کوششیں نہیں کیں، افغانستان میں جو کچھ ہورہا ہے اس کا الزام پاکستان پر دھرنا انتہائی نا انصافی ہے، امن میں دلچسپی نہیں ہوتی تو کابل کیوں جاتا، پاکستان نے گزشتہ 15 برسوں میں 70 ہزار جانوں کا نقصان اٹھایا ہے۔

 

 

پاکستان میں 30 لاکھ افغان پناہ گزین موجود ہیں اور ہم مزید پناہ گزینوں کی آمد کے خدشے سے پریشان ہیں، ہمارے پاس گنجائش اور معاشی صلاحیت نہیں ،جب طالبان کو فتح کا یقین ہے تو ہماری بات کیوں سنیں گے؟ پاکستان، بھارت کے تنازعات حل ہونے سے پورا خطہ تبدیل ہوجائے گا۔ جمعہ کوازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں وسطی اور جنوبی ایشیا کے ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیراعظم عمران خان، ازبک صدر شوکت، افغان صدر اشرف غنی سمیت خطے کے ممالک کے اہم عہدیداران اور بین الاقوامی اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔

 

 

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے افغانستان کے صدر اشرف غنی کی جانب سے افغان تنازع میں پاکستان کے منفی کردار کی نشاندہی پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ افغانستان میں گڑبڑ سے جو ملک سب سے زیادہ متاثر ہوگا وہ پاکستان ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ 15 برسوں میں 70 ہزار جانوں کا نقصان اٹھایا ہے، تنازع میں اضافہ وہ سب سے آخری چیز ہوگی جو پاکستان چاہے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہماری معیشت بالآخر بحالی کی جانب گامزن ہے، اور ہم سب سے مشکل ترین ادوار میں سے ایک سے گزرے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں دوبارہ دہراتا ہوں افغانستان میں گڑبڑ وہ آخری چیز ہوگی جو پاکستان چاہے گا، میں آپ کو اس بات کا یقین دلاتا ہوں کہ کسی ملک نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان سے زیادہ کوششیں نہیں کیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں طالبان کے خلاف فوجی کارروائی میں کمی کے ساتھ ہم نے انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کی ہر کوشش کی ہے تا کہ ایک پر امن تصفیہ ہوسکے۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Related Posts