ستمبر 2017 میں پاکستانی بزنس مین عارف نقوی نیویارک میں ایک نئے فنڈ کے لیے اربوں روپے جمع کرنے کی کوشش کر رہے تھے- اور اس سلسلے میں انہوں نے وہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد سے ملاقاتیں شروع کردیں-
دھوکہ وہ بھی بل گیٹس کے ساتھ … پاکستانی بزنس مین نے 100 ملین ڈالر کا فراڈ

عارف نقوی نجی ایکویٹی فرم دی ابراج گروپ کے سربراہ تھے اور سرمایہ کاری کے شعبے کی ایسی اہم شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے جس دنیا کی بہتری کا سوچتے ہوئے سرمایہ کاروں کے لیے منافع کمانے کی کوشش کی-انہوں نے ایک ہفتہ دنیا کے چند امیر ترین اور طاقتور لوگوں کے ساتھ ملاقاتوں میں گزارا جن میں بل گیٹس، بل کلنٹن، اور اس وقت کے گولڈ مین کے سی ای او لائیڈ بلینکفین شامل تھے-لیکن جہاں ایک جانب عارف نقوی اپنے مقصد کے حصول کے لیے دنیا کے امیر ترین افراد کو متاثر کرنے میں مصروف تھے وہیں دوسری طرف ان کا ایک ملازم یہ سب ختم کرنے والا تھا کیونکہ بنیادی طور پر عارف نقوی ایک بہت بڑا فراڈ کرنے جارہے تھے-
لیکن ایک ہفتے بعد ہی ابراج گروپ کے ایک ملازم کی جانب سے تمام سرمایہ کاروں کو ایک گمنام ای میل موصول ہوئی جس میں تنظیم کے فنڈز میں ہونے والے خرد برد کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات کیے گئے-اصل کہانی تب شروع ہوئی جب عارف نقوی نے اس فنڈ میں سے 780 ملین ڈالر نکالے لیکن ان میں سے 385 ملین ڈالر کا انہوں نے کوئی ریکارڈ فراہم نہیں کیا کہ یہ رقم کہاں خرچ کی گئی؟