اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پوری دنیا میں یہودی آج بھی ماہرین آثار قدیمہ کا روپ دھارے ملکوں ملکوں کھدائی کرتے پھر رہے ہیں لیکن آج بھی اس میں ناکام ہیں۔اس صندوق میں کیا ہے؟۔ یہ صندوق یہودیوں کے لئے زندگی موت کا مسلہ کیوں بنا ہوا ہے؟۔ یہودی اس صندوق کا کیا کرنا چاہتے ہیں؟۔سب سے پہلے ہم قران پاک میں دیکھتے ہیں۔کہ اس صندوق کی کیا اہمیت تھی اور اس میں کیا تھا۔ ہمارے لئے قران پاک سےبڑھ کرکوئی حوالہ نہیں ۔۔۔وَقَالَ لَهُمْ نِبِیُّهُمْ إِنَّ آیَةَ مُلْکِهِ أَن یَأْتِیَکُمُ التَّابُوتُ فِیهِ سَکِینَةٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَبَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَکَ آلُ مُوسَى وَآلُ هَارُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلآئِکَةُ إِنَّ فِی ذَلِکَ لآیَةً لَّکُمْ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِینَ۔۔۔اور ان سے انکے پیغمبر نے کہا: اسکی بادشاہی کی علامت یہ ہے کہ وہ صندوق تمہارے پاس آئیگا جسمیں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے سکون واطمینان کا سامان ہے جس میں آل موسیٰ و ہارون کی چهوڑی ہوئی چیزیں ہیں جسے فرشتے اٹهائے ہوئے ہوں گے اگر تم ایمان والے ہو تو یقینا اسمیں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے اس آیت مبارکہ میں لفظ تابوت کا مطلب صندوق اور سکینہ کا مطلب ایسا سامان جس سے دل کو سکون اور راحت ملے۔ یعنی اس صندوق میں ایسا سامان تھا جس کی برکت سے دلوں کو مضبوطی اور تسکین ملتی تھی۔تفاسیر کے مطابق یہ صندوق سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام پر جنت سے اتارا گیا تھا یہ ” شمشاد” نامی لکڑی سے بنا ہوا تھا۔
حضرت آدم ؑ کے لیے آسمانوں سے اتارا جانے والا تابوت سکینہ ۔۔۔!!! اس صندوق میں کیا کچھ تھا اور اب یہ صندوق کس کی ملکیت ہے ؟ پڑھیے ایک تاریخی و معلوماتی تحریر

اس مقدس و متبرک صندوق میں حضرت آدم علیہ السلام اپنا ضروری سامان رکھا کرتے تھے۔ یہ صندوق نسل در نسل چلتا ہوا حضرت یعقوب علیہ السلام تک پہنچا ۔حضرت یعقوب علیہ السلام کا دوسرا نام اسرائیل تھا ان کی اولاد بنی اسرائیل یعنی اولاد اسرائیل کہلائی حضرت یعقوب علیہ السلام کے ایک بیٹے کا نام یہودا تھا۔جن کی نسل کو ھم یہودیوں کے نام سے پکارتے ہیں۔ یہ صندوق بنی اسرائیل کے پیغمبروں کے پاس آ گیا۔ یہودیوں کے پہلے رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام تھے
یہ صندوق ان کے زیراستعمال رہا۔ اس میں آپ علیہ السلام اپنا عصا مبارک اور آپ پر نازل ہونے والی تورات کی لوحیں رکھا کرتے تھے یعنی اس صندوق میں انبیا کے معجزات کی اشیا محفوظ ھوتی تھیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کے دنیا سے رخصت ہونے پر انکے لباس عصا مبارک ، عمامہ مبارک اور آسمان سے اتارا جانے والا من و سلویٰ بھی اس صندوق میں محفوظ کر دیا گیا اور یہ صندوق قوم کے سرداروں کی تحویل میں چلا گیا۔ یہ معجزات اللہ کی طرف سے ان انبیا پر اتارے گئے تھے چناچہ ان کی برکت سے اس صندوق کو خاص فضیلت حاصل تھی۔بنی اسرائیل کے لوگ اس صندوق کا بے حد احترام کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی اس صندوق کی برکت سے ان کو بہت زیادہ فوائد حاصل ہوتے تھے کبھی کوئی آسمانی آفت آتی تو یہ اس صندوق کے سامنے بیٹھ کر دعا کرتے تو وہ آفت حیرت انگیز پر فورا” ٹل جاتی۔کبھی زلزلہ ، سیلاب خوفناک آندھی و طوفان آتا تو یہ تابوت سکینہ کے وسیلے سے دعا کرکے اس سے نجات پا لیا کرتے۔ یہ قوم بہت عجیب و غریب عادات کی مالک تھی۔ایک طرف تو صندوق اور اس میں موجود اشیا کا احترام اس قدر کہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا دوسری طرف اللہ کے احکامات سے مکمل روگردانی کرنا ان کا معمول بن چکا تھا۔ یہ نہایت ضدی اڑیل مغرور اور سرکش لوگ تھے حد سے زیادہ لالچی مال دولت سے محبت کرنے والے اور ظالم تھے