سویٹزر لینڈ کی ایک دوا بنانے والی فیکٹری نے ایک نٸی دوا تیار کی ہے جسے قرآن کی دوا کا نام دیا گیا ہے-یہ دوا بنیادی طور پر آنکھوں کے موتیا کیلئے ہے اس سے موتیا سرجری کے بغیر ٹھیک ہو جاٸے گا-درحقیقت اس دوا یاقطروں کا نسخہ ایک مصری ڈاکٹر عبدالباسط محمد نے اپنی بہترین تحقیق سے تیار کیا ہے، یہ دوا انسان کے پسینے والے غدود سے بناٸی گٸی ہے اور اس سے شفاء یابی کے امکانات 99 فیصد ہیں جو یورپمیں اور امریکہ میں رجسٹرڈ ہو چکی ہے، اور یہ رپورٹ بھی شائع ہو چکی ہے کہ آنکھ میں ڈالنے والے قطرے بنائے جا چکے ہیں-یہ سب کیسے ممکن ہوا ہے اس کیلیے ایک بہت ہی خوبصورت واقعہ ہے جس سے ڈاکٹر عبدالباسط کے اندر ایک طوفان برپا کر دیا اور اتنا بڑا جذبہ پیدا ہوا-
آپریشن نہیں صرف قطرے، کیسے مسلمان سائنسدان نے قرآن پاک سے موتیے کا علاج دریافت کر کے انقلاب برپا کردیا؟

ڈاکٹر عبدالباسط کہتے ہیں کہ ایک صبح میں سورۃ یوسف پڑھ رہا تھا اور میری توجہ آیت نمبر 84 اور اس کے بعد کی آیات کی طرف مبذول ہو گٸی- کہ “سیدنا یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹے یوسف علیہ السلام کے غم میں رو رو کر آنکھیں ضاٸع کر لیں اور آنکھیں بالکل سفید ہو گٸی ان میں موتیا اتر آیا، اور نظر ختم ہو گٸی- اور جب سیدنا یوسف علیہ السلام کا کرتا ان کی آنکھوں کو لگایا گیا تو ان کی آنکھیں ٹھیک ہو گٸیں ان کا موتیا ٹھیک ہو گیا اور نظر واپس آ گٸی! یہاں آ کر میرا دماغ روشن ہوا۔۔ تو میں نے سوچنا شروع کر دیا، کہ سیدنا یوسف علیہ السلام کے کرتے میں کیا ایسی چیز ہو سکتی ہے جس نے ان کی آنکھوں کو ٹھیک کیا کیونکہ قرآن میں اللہ فرماتا ہےکہ غور کرنے والوں کیلٸے بہت ساری نشانیاں ہیں،
موتیا کیسے ٹھیک ہو گیا! کون سی چیز ہو سکتی ہے جس سے اللہ کے حکم سے فائدہ ہوا؟اور آخر کار میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ پسینہ کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں ہو سکتی؟اس کے بعد میں نے اس پر سوچنا شروع کیا اور پسینہ اور اس کے اندر کون سے کیمیکل اجزا ہوتے ہیں اس پر تحقیق شروع کر دی، اور پھر میں نے 350 مریضوں پر اس کا تجربہ شروع کر دیا، اور یہ دوا تین مرتبہ روزانہ دو ہفتوں کیلٸے استعمال کروائی-