اس وقت مینار پاکستان کے گریٹر اقبال پارک میں ہونے والے شرمناک واقعہ پر تبصرے ہر طرف جاری ہیں اور صارفین کے تبصرے اور سوالات بھی توجہ کا مرکز بن رہے ہیں۔
ایک دن بعد ہنستے ہوئے تصویر ڈالی اور وہی شرٹ یاسر نے پہن لی کچھ سمجھ نہیں آیا ۔۔ صارفین نے مینار پاکستان واقعہ پر سوالات اٹھا دیے

سوشل میڈیا صارفین وائرل ہونے والی ویڈیو پر برہمی کا اظہار کر رہے تھے اور ان 400 افراد کو سرعام پھانسی پر لٹکانے کا مطالبہ کر رہے تھے لیکن اگلے ہی روز مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون عائشہ اکرم پر ہی صارفین شک و شبہات کا اظہار کرنے لگے۔ آخر انہیں ایسا کیا محسوس ہوا آج ہم جانیں گے۔
صارفین نے پہلا سوال یہ کیا کہ جس دن یہ واقعہ پیش آیا اسی روز ایف آئی آر کیوں نہیں درج کروائی گئی۔ صارفین نے دوسرا سوال یہ اٹھایا کہ 14 اکست کو پیش آنے والے واقعے کے اگلے روز عائشہ اکرم کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک ہنستی مسکراتی تصویر شئیر کی گئی اور 18 اگست کو نجی ویب سائٹ کے میزبان یاسر شامی کو انٹرویو دیا۔