ایک صحابی حضور ﷺ کی خدمت میں آئے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں نے جو اپنا وقت رکھا ہے اوراد و وظائف کے لئے اس میں چوتھا حصہ درود پڑھتا ہوں اور تین حصے باقی وظیفے پڑھتا ہوں آپ ﷺ نے درود بڑھاؤ اس نے کہا اچھا حضورﷺ اب میں دو حصے درود پڑھوں گا اور دو حصے باقی آپ ﷺ نے فرمایا درود کو اور بڑھاؤ اس نے کہا حضورﷺ اچھا میں اپنے وقت کے تین حصے درود میں صرف کروں گا ایک حصے میں باقی وظیفے پڑھو گا
بدنصیب ہی ہو گا جو یہ وظیفہ چھوڑ دے گا

آپﷺ نے فرمایا اور بڑھاؤ اس نے کہا آقا ﷺ اب میں سارے وظیفے چھوڑ کر صرف درود شریف پڑھا کروں گا ۔فرمایا پھر اس درود کی برکت سے تیرا ہر ہم اور غم مٹ جائے گا اس لئے اور وظیفوں کی کیا ضرورت ہے جب درود پاک تمہارے پاس موجود ہے طواف ہے صفا مرویٰ ہے منیٰ ہے عرفات ہے مزدلفہ ہے کھڑے ہیں بیٹھے ہیں درود پڑھو اور خاص طور پر جمعہ کے دن کے درود کے بارے میں حضورﷺ نے فرمایا کہ جو جمعہ کے دن میرے اوپر درود پڑھتے ہیں میرے اوپر وہ درود پیش کیاجاتا ہے میرا مدنی تیرے امتی نے یہ درود بھیجا ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ کس طرح سے قرآن پاک میں دعوت دے رہے ہیں کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھیں اور یہ بات ہم اور آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ قرآن حکیم اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور ایک مکمل ہدایت ہے اور اس میں تمام احکامات بنی نوع انسان کیلئے محفوظ کر لیے گئے ہیں اور کہیں پر بھی فرشتوں کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز بیان نہیں کی لیکن اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اُس مرتبہ اور منزلت کو بیان کیا ہے جو آسمانوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہے۔