اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )ہم اکثر کہتے ہیں کہ اللہ کی ذات کن فیکون ذات ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کہتا ہے کن ہوجا اور فیکون ہوجاتا ہے ویسےتو احادیث کے اندر جو صلوۃ الحاجت کی نماز ہے اس کے بارے میں یہ کہاجاتا ہے کہ دو رکعت نماز نفل ادا کی جائے اور پھر اس کے بعد ایک خاص دعا بتلائی گئی ہے اس دعا کو مانگو اور اللہ کے سامنے اپنی حاجت
بعد نمازِ عشا کن فیکون پڑھنے کا طریقہ ہر جائز حاجت پوری کرنے کا وظیفہ

رکھو لیکن اس تحریر میں جو قضائے حاجات کی نماز بتارہے ہیں اس کو نماز کن فیکون بھی کہاجاتا ہے یعنی آپ جیسے ہی اس نماز کو جس قسم کی جائز حاجات کے لئے پڑھیں گے آپ کی وہ حاجت پوری ہوجائے گی اسی لئے اس نماز کو نماز کن فیکون کہاگیا ہے یہ نماز آپ نے کیسے اداکرنی ہے اور اس کا مکمل طریقہ کیا ہے ؟اللہ کے سوا کوئی نہیں ہے جو انسان کی حاجت رفع کر سکے دنیا کے اندر جتنے بھی مذاہب ہیں ان سب میں کوئی آگ کو پوجتا ہے کوئی پتھروں کو کوئی ستاروں کو الغرض جس چیز کو بھی پوج کر اپنی حاجت مانگتا ہے اس کی حاجت پوری اللہ ہی کرتا ہے بے شک وہ مشکل کشا اپنے بناوٹی خدا کو ہی کیوں نہ سمجھے لیکن خالق و مالک اور رزاق تو اللہ کی ہی ذات ہے اس کا ہر چیز پر تصرف ہے اسی لئے چاہئے کہ جو بھی حاجت ہو اسی سے مانگی جائے حدیث میں یہاں تک آیا ہے کہ اگر تمہارے جوتے کا تسمہ بھی ٹوٹے تو اللہ ہی سے مانگو اور فرمایا کہ نماز کے ذریعے اللہ سے مانگو ۔اس تحریر میں اللہ سے مانگنے کا
ایک مجرب عمل بتایا جارہا ہے جو صلوۃ الحاجت کی ایک آزمودہ قسم ہے جسے نماز کن فیکون بھی کہتے ہیں اس بارے میں یہ بھی آتا ہے کہ ہر اسلامی ماہ کے پہلے ہفتے میں شب جمعہ سے یہ عمل شروع کیاجائے اور سات روز تک کیاجائے لیکن اگر آپ یہ اہتمام نہیں کرسکتے اور آپ سے ہر ماہ کا پہلا ہفتہ مس ہوجاتا ہےتو پریشانی کی بات نہیں آپ اس