لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار حامد میر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں۔ یہ وبا کا دور ہے۔ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے لاکھوں لوگ چل بسے ۔ پاکستان اور گردونواح کے ممالک میں بھی روزانہ سینکڑوں لوگ انتقال کر رہے ہیں۔ ابھی تک اس وبا کا بہترین علاج احتیاط ہے لیکن جو احتیاط نہیں کر رہے اُنہیں پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے جاہل قرار دے دیا ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ نے ایک شو میں کہا کہ لاہوریے اللہ تعالیٰ کی الگ مخلوق لگتے ہیں، وہ کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہوتے شاید ہی کوئی قوم اتنی جاہل ہوگی جیسی باتیں ہم کرتے ہیں۔
حضرت داتا گنج بخش کے مزار پر پہلا کنکشن ایک غیر مسلم نے لگوایا تھا، مگر کیوں؟ ایسی وجہ جسے جان کر آپ کو بھی یقین نہ آ ئے۔

اُن کے حالیہ بیان کے بعد میں نے بھی سوچا کہ بے احتیاطی تو پورے پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں کی جا رہی ہے پھر ڈاکٹر صاحبہ نے غصہ صرف لاہوریوں پر کیوں نکالا؟ اس سوال کا جواب مجھے فوراً مل گیا لیکن جواب آپ کے گوش گزار کرنے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ لاہور کے لوگ اتنے عجیب نہیں البتہ لاہور پر بڑے عجیب عجیب لوگوں نے حکومت کی ہے۔
بہت سے حکمران ایسے تھے جو لاہور پر لاہوریوں کی مرضی کے خلاف مسلط کر دیے گئے، وہ لاہوریوں پر بھی ظلم کرتے تھے اور ملتان والوں پر بھی ظلم کرتے تھے اور گالی لاہوریوں کو دی جاتی تھی۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کا آبائی شہر چکوال ہے لیکن وہ فاطمہ جناح میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد لاہور میں آباد ہوئیں۔ اُنہیں لاہور کی تاریخ کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ احمد شاہ ابدالی اپنے تیس سالہ دور اقتدار میں نو بار لاہور پر چڑھ دوڑا ہوا۔ ایک دفعہ اُس نے لاہور کو ایک سکھ سردار لہنا سنگھ کے حوالے کر دیا۔اُس نے لاہور پر اپنی گرفت کو مضبوط کرنے کے لئے دو سکھ سرداروں صوبہ سنگھ اور گجر سنگھ کو بھی شریک اقتدار کر لیا۔