اسلام آباد(نیوز ڈیسک) گریویٹی پیمنٹس نامی کمپنی کے مالک کو کمپنی کی ایک اہلکار سے بات کا موقع ملا تو معلوم ہوا کہ 40 ہزار ڈالر سالانہ تنخواہ ہونے کے باوجود ان خاتون کا گزارہ نہیں ہورہا کیونکہ سیاٹل شہر میں رہائش بہت مہنگی ہے اور کرائے کے مکان کی بنا پر خاتون اپنے بچوں کی کفالت کرنے سے قاصرتھیں اور قرض میں پھنستی جارہی تھیں۔ اس کے بعد کمپنی کے سی ای او ڈین پرائس نے خود اپنی تنخواہ میں کمی کی جو لاکھوں ڈالر تھی اور اپنے ادارے کے ہر ملازم کی کم ازکم تنخواہ 70 ہزار ڈالر کردی۔
دبئی جانے کا ٹوٹل خرچہ338 روپے۔۔!! شوقین افراد کو خوشخبری سُنا دی گئی، خواہشمند افراد نے رَخت سفر باندھ لیا

اس کے علاوہ اس نے اپنے دو مکان بھی کرائے پر دے دیئے تاکہ مزید بچت کی جاسکے۔شروع میں دوسری کمپنیوں کے مالکان نے اس فیصلے پر تنقید کی لیکن 2015 میں بڑھائی جانے والی یہ تنخواہ اب بھی برقرار ہے اور ڈین کے مطابق اس کا کمپنی کو بہت فائدہ ہوا ہے۔ اس سے قبل کمپنی کے ایک فیصد افراد ہی اپنا مکان خریدنے یا اقساط دینے کی سکت رکھتے تھے لیکن تنخواہ میں اضافے کے بعد کمپنی کے 10 فیصد ملازمین نے امریکہ کے مہنگے ترین شہر میں اپنا مکان بنانے کا خواب پورا کیا ہے۔
کمپنی کے دو سینیئر اہلکار نے یہ کہہ کر استغفیٰ دیدیا تھا کہ اس طرح ایک دم تنخواہ بڑھنے سے نئے اور کم عمر ملازم بے فکرے اور نااہل ہو جائیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا اور انہوں نے زیادہ مستعدی سے کام کیا۔ پھر تنخواہ بڑھنے سے بعض ملازموں نے دفتر کے پاس گھر کا انتظام کیا اور کمپنی کو رضاکارانہ طور پر زیادہ وقت دینے لگے۔