اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )ایسی خوشی سے بچوجو دوسروں کو دکھ دینے سے حاصل ہو۔ہمیشہ اس انسان کی عزت کرو جو آپ کو ناپسند ہوسکتا ہے آپ کا ایسا کرنے سے اس کا کردار بدل جائے گا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جس انسان کا دین اور اخلاق تمہیں پسند آجائے تو اس سے اپنی بیٹی کا نکاح کردو۔کبھی کبھی میٹھی گفتگو کر کے لوگ آپ کو عزت نہیں بلکہ دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: دوچیزیں دیکھتے ہی اپنی بیٹی کا نکاح کردو

زندگی میں جو چاہے حاصل کرو مگر اتنا خیال رہے کہ تمہارا کامیابی کا راستہ لوگوں کے دلوں کو توڑتا ہوا نہ گزرے۔اگر کبھی غرور آنے لگے تو ایک چکر قبرستان کاچکر لگالیا کرو وہاں آپ سے بہتر انسان مٹی کے نیچے دفن ہیں۔اس معاشرے میں عورت کا مرتبہ بلند کیسے ہوسکتا ہے جہاں مرد وں کی لڑائی میں گالیاں ماں اور بہن کی دی جاتی ہیں۔ جو تمہیں باہر سے سخت نظر آتے ہیں اگر تم ان کا اندر دیکھ لو تو تمہیں بھی ان پر ترس آنے لگے گا۔ کبھی کبھی انسان اتنا بے بس ہوجاتا ہے کہ امیدیں دعائیں اور یقین سب آنکھوں کے راستے بہنے لگتا ہے ۔انسان ایک غافل منصوبہ ساز ہے کہ وہ اپنی پلاننگ میں کبھی اپنی موت کو شامل ہی نہیں کرتا۔اللہ کے دین کے مطابق اسلام میں نکاح اتنا مشکل نہیں جتنا بنادیا گیا ہے۔آج ہماری خواہشات اور توقعات اس قدر بڑھ گئ ہیں کہ ہم کہیں بھی کسی بھی معاملے میں سمجھوتہ کرنا ہی نہیں چاہتے۔وہ خواہ لڑکا لڑکی کی شکل و صورت ہو,قابلیت ہو ,آمدنی ہو یا پھر اس کا نصب ونسق مطلب خاندان۔لڑکا چاہئے تو کسی فملی ہیرو سے کم نہ ہو ,عمر 25 سال سے زیادہ نہ ہو اور کمائ اتنی کہ پیسہ برس رہا ہو۔لڑکی چاہئے تو حور پری, قابلیت ڈاکٹر انجینئر سے کم نہ ہو عمر 20 سال سے زیادہ نہ ہو اور گھر کے کاموں میں اتنی سگھڑ اور عقل مند کہ نانی دادیوں کو بھی پیچھے چھوڑ دے۔دوسری طرف دنیا کے حالات یہاں پہنچ چکے ہیں کہ آج کے دور کی بے حیائ اپنے عروج پر ہے زنا عام ہوگیا ہے۔نہ صرف حقیقی بلکہ آنکھوں کا ,کانوں کا, ہاتھوں کا اور اس کو عام کرنے والے آج کے دور کے والدین ہیں جنھوں نے خوب سے خوب تر کی تلاش میں اپنے نوجوان بچوں کو اس نہج پر پہنچایا کہ آج انھیں اپنے گرل فرینڈ بوائے فرینڈ بنانے پڑے ۔جس کا ہمارے نہ دین میں کوئ تصور ہے اور نہ ہی ہمارا
اسلامی معاشرہ اس بات کی ہمیں اجازت دیتا ہے۔آج ہمارے بچے بچیاں مخلوط تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔پابندی ہم نے ان پر کوئ نہیں لگائ,دین کا علم اللہ کا خوف و تقوی ہم نے ان کو نہیں دیا تو پھر وہ کریں تو کیا کریں۔اگر کچھ والدین کو اس بات کا اپنی اولاد کی اس ضرورت کا احساس شروع میں ہو بھی جائے تو وہ ان کی منگنی پر ہی اکتفا کرتے ہیں ۔جبکہ منگنی کا کوئ تصور اسلام میں نہیں پھر