قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کے چئیرمین شہریار آفریدی کو نیویارک کے جان ایف کینیڈی ائرپورٹ پہنچنے پر کڑی تفتیش کا سامنا کرنا پڑا، پا کستانی قونصلیٹ کی تحریری ضمانت پر کئی گھنٹے بعد داخلے کی اجازت مل گئی۔
شہریار آفریدی کو نیویارک ائیرپورٹ پہنچنے پر کڑی تفتیش کا سامنا! کئی گھنٹے کیا کچھ برداشت کرنا پڑا؟

انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق کشمیر کمیٹی کے چیئرمین شہریار آفریدی اوورسیزپاکستانیوں کی ایک غیر سرکاری تنظیم کی دعوت پر نیویارک کے جان ایف کنیڈی ائرپورٹ پہنچے تو امریکی امیگریشن حکام انہیں اپنے ہمراہ لے گئے جہاں ان سے تین گھنٹوں تک سوال و جواب کئے گئے جن سے امریکی حکام مطمئن نہ ہوئے.
جس پر ذرائع کے مطابق انہیں ڈی پورٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاہم سرکاری پاسپورٹ پر سفر کرنیوالے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین شہریار آفریدی کو واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے سے رابطے کی اجازت دی گئی۔ جسکے بعد سفیر پاکستان اسد مجید خان کی ہدایت پر نیویارک میں متعین پاکستانی قونصل جنرل عائشہ علی نے ائرپورٹ کیامیگریش حکام سے ملاقات کرکے انہیں کشمیر کمیٹی کے چیئرمین شہریار آفریدی کی ضمانت دیتے ہوئے تحریری درخواست جس پر انہیں امریکہ میں داخلے کی اجازت مل گئی اور وہ اپنے میزبانوں کے ہمراہ روانہ ہوگئے۔