اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ جمعہ کے دن کو باقی دنوں پر ایسی فضیلت حاصل ہے جیسا کہ رمضان المبارک کو باقی دنوں پر یہی وجہ ہے کہ جمعہ کے دن سے بہت سے وظائف منسلک ہیں ظاہر بات ہے کہ جتنے مبارک اوقات ہوں گے ان میں کئے گئے اعمال بھی اتنی ہی برکت و فضیلت والے ہوں گے سورہ اخلاص بڑی فضیلت
قرآن مجید کی یہ چھوٹی سی سورۃ مبارک جمعہ کے روز نمازعصر کے بعد پڑھنے کے بے شمار فوائد

کی حامل ہے اسے نبی کریم نے ثلث القرآ ن یعنی ایک تہائی قرآن قرار دیا ہے اور اسے رارت کو سونے سے پہلے پڑھنے کی تاکید فرمائی ہے یہ چار آیات پر مشتمل مختصر سورت ہے جو اپنے اندر بے شمار فضائل لئے ہوئے ہے جو احادیث نبویہ سے ثابت ہے ۔اس تحریر میں ان فضائل کے بارے میں بتایا جارہا ہے اور ساتھ میں یہ بھی بتایا جائے گا کہ اس سورت کا آپ جمعہ کے دن کیا وظیفہ کر سکتے ہیں اور یہ وظیفہ آپ نے کیسے کرنا ہے ۔ترمذی حاکم وغیرہ کی روایات میں ہے کہ مشرکین مکہ نے رسول اللہ سے اللہ تعالیٰ کا نسب پوچھا تھا ان کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی بعض روایات مین ہے کہ مشرکین کے سوال میں یہ بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ کس چیزکا بناہوا ہے سونے چاندی یا کسی اور چیز کا ان کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی یاد رہے کہ احادیث کے اندر اس سورت کے بے شمارفضائل بتائے گئے ہیں ان میں سے چند فضائل یہ ہیں ترمذی نے حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ نے لوگوں سے
فرمایا کہ سب جمع ہوجاؤ میں تمہیں تہائی قرآن سناؤں گا جو جمع ہوسکتے تھے جمع ہوگئے تو آپ تشریف لائے اور قل ھواللہ احد یعنی سورہ اخلاص کی تلاوت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ یہ سورت ایک تہائی قرآن کے برابر ہے بروایت مسلم ایک دوسری روایت میں حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی ہر رات جب بستر پر تشریف لاتے تو قل ھو اللہ احد اور قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس