پاکستان (نیوز اویل)، خواجہ سراؤں کی بات کی جائے تو ان کے لیے زندگی کافی زیادہ مشکل ہوتی ہے اگر پاکستان میں ان کی تعداد کی بات کی جائے تو ان کو مردم شماری میں بھی شامل نہیں کیا جاتا
لمز یونیورسٹی کی پروفیسر خواجہ سرا عاشی بٹ کی دردناک کہانی!

حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک خواجہ سرا جن کا نام عاشی بٹ ہے ان کا انٹرویو بہت زیادہ وائرل ہو رہا ہے جس میں انہوں نے کافی حقیقتوں سے پردہ اٹھایا ہے
عاشی بٹ ایک شیلٹر ہوم بھی چلا رہی ہیں جس میں وہ 50 سال سے زائد عمر کے خواجہ سراؤں کو رہنے کی جگہ اور کھانا پرووائیڈ کرتی ہیں اور اس کے علاوہ جو خواجہ سرا بیمار ہوتے ہیں ان کا علاج کرواتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ جن خواجہ سراؤں کو دفنانے کے لیے کوئی نہیں ہوتا ان کے کفن دفن کا بھی انتظام کرتی ہیں