لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار محمود شام اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وزرائے اعظم کے خاندانوں کا معاشی عروج تو ہم نے بہت دیکھا ہے۔ سابق وزرائے اعظم معزول ہونے کے بعد پہلے سے بھی زیادہ پُرتعیش زندگی گزارتے ہیں۔ پاکستان کے ہر شہر میں ان کی رہائش گاہیں تو ہوتی ہی ہیں۔
لیاقت علی خان کے ایک بیٹے اکبر لیاقت ان دنوں کہاں اور کس حال میں ہیں ؟

دبئی، لندن، واشنگٹن میں بھی ان کے بڑے بڑے بنگلے ہیں۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم کے اس قوم پر بہت احسانات ہیں۔ ایک نوزائیدہ ملک کو سنبھالنا، کشمیر میں آزادی کی جنگ کے نتیجے میں موجودہ آزاد کشمیر کا حصول پھر پاکستان کے دفاع کے لئے بی آر بی نہر کی تعمیر۔ان کے لاڈلے بیٹے اشرف لیاقت کچھ عرصہ پہلے سرطان سے انتقال کر گئے تھے۔ ان کا علاج بھی بہتر طریقے سے نہیں ہو سکا تھا۔ دوسرے پیارے بیٹے 80سالہ اکبر لیاقت گردے کے امراض میں مبتلا ہیں۔ ہفتے میں ان کے تین ڈائیلاسز ہو رہے ہیں۔ ان کی عزیز بیٹیاں بہت مشکل سے علاج کے اخراجات برداشت کررہی ہیں۔ اکبر لیاقت نے کبھی اپنے عظیم والد کے حوالے سے اس ملک سے کچھ ناجائز اور غیرقانونی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ قائداعظم سے قربت کے مناظر تو اہلِ پاکستان نے اس وقت بھی دیکھے جب قائداعظم کی بیٹی ڈینا پاکستان آئیں تو اس خاندان سے بھی ملیں۔
اکبر لیاقت کو ذوالفقار علی بھٹو نے 1977کے انتخابات میں ان کے والد کے نام سے موسوم لیاقت آباد میں پی پی پی کا ٹکٹ دیا تھا مگر وہ کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے سیاست میں کبھی حصّہ نہیں لیا۔ بےنظیر بھٹو نے بھی پیشکش کی مگر آج کی سیاست پیسہ مانگتی ہے۔ اُردو زبان کے حوالے سے انہیں جب لسانی سیاست میں شرکت کی دعوت دی گئی تو انہوں نے انکار کیا تھا۔ ان کی بیگم درّ لیاقت ان دنوں ان کی دیکھ بھال کررہی ہیں۔ انہیں اپنی والدہ کے گھر لے آئی ہیں۔ وہ پورے پاکستان کے ایک وزیر خارجہ حمید الحق چوہدری کے بھائی کی نواسی ہیں۔ باتھ آئی لینڈ میں ان کا اپنا فلیٹ فروخت ہو چکا ہے۔