لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سکندر خان بلوچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں یہ سن 715ء ہے۔ حج کا موسم ہے مکہ میں خوب چہل پہل ہے مسلمانوں کے قافلے دھڑادھڑ آرہے ہیں خیموں کا شہرمعرض وجود میں آچکا ہے جو لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہا ہے مسجد الحرام کے سامنے فقیروں کی قطاریں ہیں۔
وہ عظیم مسلمان حکمران جو زندگی کے آخری دنوں میں بھیس بدل کر بھیک مانگنے پر مجبور ہو گیا

ان میں زیادہ تر بدو ہیں جو حج کے دنوں میں یہاں آکر بھیک مانگتے ہیں۔ ان فقرا میں اس دفعہ ایک بوڑھے فقیر کا اضافہ ہے جس پر کسی نے کوئی خاص توجہ نہیں دی کیونکہ عام فقیروں کی طرح اسکے کپڑے پرانے میلے اور پھٹے ہوئے ہیں۔چہرے پر مٹی کی اس حد تک دھول ہے کہ چہرہ پہچانا ہی نہیں جاتا۔ تمام فقرا میں یہ شخص سب سے بوڑھا ہے۔ یہ باقی فقیروں کی طرح بھیک کیلئے درد ناک آواز بھی نہیں نکال رہا لیکن اس میں اور باقی فقرا میں سب سے اہم فرق یہ ہے کہ اسکے پائوں میں بیڑیاں ہیں۔حاجی لوگ پاس سے گزرتے ہیں۔
اس فقیر کو غور سے دیکھتے ہیں۔ ایک یا دو دینار نکال کر سامنے پھینک دیتے ہیں۔ایک حاجی صاحب سامنے آکھڑے ہوئے غور سے دیکھا۔ پھر پوچھا:’’چوری کی ہے؟ ‘‘۔فقیر نے جواب دیا: ’’چوری کی ہوتی تو ہاتھ نہ ہوتے‘‘۔ ’’تو کیا کسی خاتون کو چھیڑا ہے‘‘ ۔حاجی نے مزید پوچھا ۔’’اگر خاتون کو چھیڑا ہوتا تو سنگ سار کر دیا جاتا‘‘۔فقیر نے جواب دیا۔حاجی نے پھر پوچھا:’’ تمہارا نام کیا ہے؟ ‘‘ جواب ملا: ’’کبھی میرا نام بھی ہوا کرتا تھا۔اب رہے نام اللہ کا‘‘۔’’تو پھر آپ کون ہیں اور آپکے پائوں میں بیڑیاں کیوں ہیں‘‘۔حاجی نے پھر پوچھا۔فقیر نے جواب دیا۔’’میں امیر المومنین شاہ سلمان بن عبدالملک کا قیدی ہوں‘‘۔اتنی دیر میں بر بر قبیلے کے دو حاجی آئے اور فقیر کے سامنے بیٹھ گئے ۔فقیر ایک ہی صدا لگارہا تھا ’’وتعز من تشاء و تزل من تشائ۔‘‘ ُیہ دونوں اپنے اپنے قبیلوں کے سردار تھے۔