کیا آپ کو بھی سیلفی لینے کی بیماری ہے؟ جانیے اس کے پیچھے چھپے وہ حقائق جو آپ نہیں جانتے

پاکستان (نیوز اویل)، ایک یونانی روایت کے مطابق narcissist نامی ایک خوبصورت نوجوان پانی میں اپنی شبیہہ دیکھ کر خود پسندی کا شکار ہو گیا۔

 

 

اس کو ایسے شخص کی تلاش تھی جس سے وہ محبت کرے۔ جب اس کی نظر جھیل میں اپنے عکس پر پڑی تو وہ اپنی محبت میں گرفتار ہوگیا اور خود کو دیکھتے دیکھتے جھیل میں ڈوب کر مر گیا۔

 

 

جہاں وہ ڈوبا اس جگہ ایک پھول اگا جس کو نرگس کا پھول کہا جاتا ہے۔
آہستہ آہستہ ان لوگوں کو نارسسٹ کہنا شروع کردیا گیا جو خود پسندی کا شکار ہوتے تھے یا خود کو سب سے برتر سمجھتے تھے۔

 

 

 

ایسے افراد توجہ طلبی کا شکار ہوتے ہیں۔ اکثر ایسے افراد خود کو کمتر سمجھتے ہیں اور انہیں آسانی سے دبایا جا سکتا ہے۔ یعنی وہ احساس کمتری یا احساس برتری کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔ لہذا احساس کمتری اور احساس برتری کا شکار افراد کو نرگسیت کا شکار کہا جا سکتا ہے ۔

 

 

سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال نے نوجوانوں میں خود پسندی کو کافی حد تک بڑھا دیا ہے۔ لوگ سوشل میڈیا کا استعمال توجہ حاصل کرنے کے لیے کرتے ہیں۔
سیلفی لینا بھی بیماری کی شکل اختیار کر گیا ہے۔

 

 

جو لوگ بہت زیادہ سیلفی لیتے ہیں وہ دراصل خود پسند ہوتے ہیں۔ اور ہر وقت خود کو توجہ دینے کے عادی ہوتے ہیں۔ وہ بہتر سے بہتر سیلفی لینے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں

 

 

تاکہ سوشل میڈیا پر زیادہ سے زیادہ داد حاصل کر سکیں۔ اس طرح سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال لوگوں میں نرگسیت کو فروغ دینے کا باعث بن رہا ہے جو بہت خطرناک بات ہے۔

 

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *