آخر چین کو پاکستان کی ضرورت کیوں ہے۔۔۔ وہ بڑی وجوہات جن کا جاننا ہر پاکستانی کے لیے لازمی ہے!

پاکستان (نیوز اویل)، چین اپنے 80 فیصد تیل کی تجارت Malacca strait کے راستے کرتا ہے۔ یہ راستہ چین کو دس ہزار میل لمبا پڑتا ہے۔ اگر یہی تجارت چین پاکستان کی گوادر پورٹ سے کرتا ہے

 

 

 

تو یہ راستہ محض دو سے ساڑھے تین ہزار میل کا ہے۔ لہذا صرف آدھا تیل ہی پاکستان کے راستے لے جانے سے چین کو سالانہ دو بلین ڈالر کا منافع ہوگا۔

 

 

 

ملاکا سٹریٹ کے راستے تجارت کرنا خطرے سے خالی نہیں ہے کیوں کہ یہاں ہمیشہ جنگ کا خدشہ رہتا ہے۔ یہاں امریکی فوج نے قدم مضبوطی سے جمائے ہوئے ہیں۔ لہذا حالات کی کشیدگی کی صورت میں یہ راستہ چین پر بند کیا جانے کا امکان موجود رہتا ہے۔ اس کے مقابلے میں گوادر پورٹ سے کی جانے والی تجارت بہت محفوظ ہے۔

 

 

 

چین کے مغربی علاقے غربت اور پسماندگی کا شکار ہیں۔ ایسی صورتحال میں چین کبھی دنیا پر قبضہ نہیں جما سکتا۔ لہذا اس نے اپنے مغربی علاقوں کی ترقی کے لیے ایک منصوبہ شروع کیا ہے۔ ان علاقوں میں سڑکوں کا جال بچھایا جارہا ہے اور مصنوعات تیار کی جارہی ہیں۔ ان مصنوعات کو بیرون ملک برآمد کرنے کے لیے چین دو راستے اختیار کرے گا۔

 

 

 

پہلی شاہراہ ریشم ہے جو چین کو پاکستان سے ملاتی ہے۔ اور دوسرا سی پیک۔ سی پیک کا علاقہ بہت محفوظ اور مختصر ہے اور یہاں کے ذریعے بحر ہند سے ہوتے ہوئے عرب اور افریقی ممالک سے تجارت ممکن ہوگی۔
یہ وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ چین کو پاکستان کی ضرورت ہے۔

 

 

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *