طالبان سے پہلے افغان خواتین کیسی تھیں۔۔۔ پرانا افغانستان جب خواتین حکمرانوں کو چپ کروا دیتیں تھیں! 1950-60 کے افعانستان کے متعلق دلچسپ حقائق!

پاکستان (نیوز اویل)، آج افغانستان میں طالبان کی حکومت ہے اور افغانستان جانے کا سوچنے سے بھی لوگ گھبرا جاتے ہیں ، طالبان نے افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگا دی ہے اور عورتوں پر اور لڑکیوں پر

 

 

 

یہ پابندی لگائی گئی ہے کہ وہ بغیر برقعے کے گھر سے باہر نہیں نکل سکتی بلکہ وہ گھر سے ہی باہر نہیں نکل سکتی آہستہ آہستہ لڑکیوں کے سکول اور کالجز بند کروا دیے گئے ہیں ۔

 

 

 

لیکن آج ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ افغانستان ہمیشہ سے ہی ایسا نہیں تھا ، سوویت افغان ج ن گ سے قبل افغانستان تو ایک بالکل مختلف ملک تھا اور یہاں کا طرزِ زندگی بھی بالکل الگ تھا اور یہ آزادی کے ساتھ آگے

 

 

بڑھ رہا تھا اور زندگی کا پہیہ کسی بھی خوف یا پابندی کے بغیر چل رہا تھا ۔ کابل یونی ورسٹی میں لڑکیاں انتہائی ماڈرن لباس پہنے ہوئے نظر آتی تھی جن میں وہ زیادہ تر شو ٹ سکلٹس پہنا کرتی تھیں اور اپنی

 

 

مرضی سے زندگی گزار رہی تھی وہ آزادی سے تعلیم حاصل کر رہی تھیں ، لیکن اس کے بعد 1979 میں جب سوویت افغانستان میں ج ن گ ہوئی تو حالات یکسر بدل گئے گئے افغانستان میں میں طرح طرح کی پابندیاں لگ گئی جو کہ وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ شدید ہوتی گئی ،

 

 

افغانستان کی ایک خاتون جس کا نام لالی تھا وہ کافی زیادہ مشہور تھی اور وہ اپنے ہئیر سٹائل کی وجہ سے بہت مشہور تھی جو کہ انتہائی عجیب سا تھا ، ایک

 

 

مرتبہ بادشاہ نے اسے کہا کہ آپ کا ہیئر سٹائل کچھ عجیب سا ہے آپ اسے سنبھالے تو لالی نے جواب دیا کہ آپ اپنی حکومت سنبھالیں میں اپنا ہیئر سٹائل سنبھال لوں گی ،

 

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *