دنیا کے امیر ترین انسان نے موت کو کیسے دھوکہ دیا۔۔۔ حیران کن واقعہ جس نے سب کو حیران کر دیا!

پاکستان (نیوز اویل)، دنیا کے امیر ترین انسان نے موت کو کیسے دھوکہ دیا، ڈاکٹر بھی حیران
۔
موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے فرار ممکن نہیں۔ اللہ

 

 

Advertisement

 

نے ہر انسان کو ایک معین وقت کے لئے اس دنیا میں بھیجا ہے۔ جب وقت ختم ہو جائے گا تو اس انسان کو اس دنیا سے رخصت لے کر جانا ہی ہو گا۔ انسان جو اعمال کرتا ہے کبھی کبھار اس کی قسمت کو بھی بدل

 

 

 

سکتے ہیں۔ ایک نیک عمل چاہے وہ کسی غیر مسلم نے ہی کیا ہو، اللہ وہ بھی احسان نہیں رکھتا بلکہ ہر شخص کو اس کا بدلہ ضرور دیتا ہے۔
دی راک فیلر نامی ایک امریکی شہری جس کا شمار دنیا

 

 

 

کے امیر ترین لوگوں میں ہوتا ہے، وہ ہمیشہ سے امیر نہ تھا بلکہ اس نے شروعات بہت غربت سے کی۔ اپنی محنت اور لگن کے نتیجے میں 25 سال کی عمر میں وہ ایک امریکی آئل ریفائنری کا مالک بن گیا۔ اس نے اپنی

 

 

 

لگن جاری رکھی اور محض اگلے پانچ سالوں میں اس کے کنٹرول میں دنیا کی بڑی بڑی آئل ریفائنریز آچکی تھیں۔
ابھی وہ محض پچاس سال کا تھا جب اس کا شمار دنیا کے امیر ترین لوگوں میں ہونے لگا۔

 

 

 

لیکن قدرت کی ستم ظریفی یہ تھی کہ اسے ایک موذی مرض لاحق ہوگیا جس کی وجہ سے وہ شدید درد اور تکلیف میں مبتلا ہو گیا اور اس کے سر کے بال جھڑ گئے۔ ڈاکٹروں نے اس کے مرض کی شدت اور نوعیت کو دیکھتے ہوئے بتایا کہ اس کے پاس محض ایک سال کی زندگی باقی رہ گئی ہے۔

 

 

 

اس بات پر اس نے ایک فیصلہ کیا۔ وہ فیصلہ یہ تھا کہ اس نے اپنی دولت سے خیراتی ہسپتال اور ایسے ادارے بنانے کا حکم دیا جو بیماریوں کے تشخیص اور علاج کے لیے تحقیق کرتے ہیں۔ پنسلین کی دریافت بھی اسی کے ایک ادارے میں عمل میں آئی۔

 

 

 

ایک سال کا عرصہ گزر گیا اور ڈاکٹر جو کہ یہ سمجھتے تھے کہ ایک سال کے بعد وہ مر جائے گا، انہوں نے دیکھا کہ وہ صحت مند زندگی کی طرف گامزن تھا۔ انتہائی حیران کن بات تھی کہ بیماری کے اثرات اس کے جسم

 

 

 

 

سے جاتے رہے اور وہ انسان جس کے لئے ڈاکٹر 53 سال کی عمر میں مر جانے کی پیشنگوئی کر رہے تھے وہ 98 سال کی عمر تک زندہ رہا۔ اس نے اپنی ساری زندگی

 

 

 

غریبوں کے لئے لیے دولت صرف کرنے کو معمول بنائے رکھا۔ آج بھی اس کا شمار ایسے لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اب تک دنیا میں سب سے زیادہ فلاح و بہبود کا کام کیا۔

 

 

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *