قبریں تو زمین پر ہوتی ہیں لیکن ٹھٹھہ کی ایک پراسرار قبر جو پانی کے بیچ و بیج موجود ہے، محبت کی انوکھی داستان یا پھر۔۔۔۔۔۔۔جانیے!

پاکستان (نیوز اویل)، قبریں تو زمین پر ہوتی ہیں لیکن ٹھٹھہ کی ایک پراسرار قبر جو پانی کے بیچ و بیج موجود ہے، اگر ہم وادی سندھ کی بات کریں تو یہ بہت سے قصوں اور کہانیوں سے بھری پڑی ہے اور یہاں پر

 

 

 

لوگوں کے احساسات اور جذبات سے وابستہ بہت سی لو ک کہانیاں بہت مشہور ہیں جو کہ ایک نسل سے دوسری نسل تک چلتے چلتے آج ماضی سے حال تک پہنچ چکی ہیں ۔ اگر ہم سندھ کی لوک کہانیوں کی بات کریں تو ان میں سے سسی اور پنوں کی کہانی ، بہت ہی

 

 

 

مشہور ہے لیکن یہاں کی ایک کہانی اور بھی ہے اور اس کا ذکر شاہ عبد اللطیف بھٹائی نے اپنی شاعری میں بھی کیا ہے اور وہ کہا نی اور کوئی نہیں بلکہ ” نوری جام تما چی ” کی کہانی ہے ،

 

 

 

کینجھر جھیل پاکستان کی ایک بہت خوبصورت اور سحر انگیز جھیل شمار کی جاتی ہے اور اس کی خوبصورتی کے بہت چرچے بھی ہیں اور اسے ” کلری جھیل ” بھی کہا جاتا ہے ، یہ جھیل ضلع ٹھٹھہ صوبہ

 

 

 

سندھ میں واقع ہے ، اور یہ جھیل ایک مشہور سیاحتی مقام بھی مانا جاتا ہے اور لوگ دور دور سے اسکا نظارہ دیکھنے آتے ہیں اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس کی خوبصورتی، شفاف پانی اور پرندے لوگوں کو سحر میں مبتلا کر دیتے ہیں اور یہ پرندے یہاں سائبیریا سے

 

 

 

سردیوں میں آتے ہیں اور کچھ وقت یہاں گزارتے ہیں اور ایک اور وجہ” نوری جام تما چی” کا مزار ہے جو اس جھیل کے وسط میں پانی پہ واقع ہے۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ جام تما چی چودھویں صدی

 

 

 

عیسوی میں ٹھٹھہ کا حکمران تھا اور اس وقت کینجھر جھیل کے کنارے پہ بہت سے مچھیروں کی بستی تھی اور ان کی عورتیں بھی جیل سے مچھلیاں پکڑا کرتی تھی اور گزر بسر کے لیے ان کو بیچا کرتی تھیں ،

 

 

 

جام تما چی کو سیر و تفریح کا بے حد شوق تھا ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ وہ ایک دن کشتی میں کینجھر جھیل کی سیر کر رہا تھا کہ اس نے اچانک سے اس کی نظر ایک خوبصورت لڑکی ” نوری” پر پڑی جو کہ ایک

 

 

 

 

مچھیرے کی ہی بیٹی تھی اور اسی وقت جام تما چی نے یہ فیصلہ کر لیا کہ وہ اسی لڑکی سے شادی کرے گا اور نوری کے گھر والوں سے بات کی گئی جس کے بعد ان کی شادی ہوگئی ،

 

 

 

نوری بہت ہی معصوم اور سادہ تھی اور اس کی اور یہ بات جام تما چی کو بہت پسند تھی اور وہ اس کی محبت میں روز بروز گر فتا ر ہوتا جا رہا تھا اور اسی وجہ سے نوری اس کو اس کی باقی تمام بیویوں سے

 

 

زیادہ عزیز تھی اور اس کی باقی تمام بیویاں نوری سے بے حد حسد کرتی تھیں اور جام تما چی کو اس کے خلاف باتیں کیا کرتی تھیں اور اسے بھڑکانے کی کوشش کرتی رہتی تھیں لیکن وہ اپنی کوششوں میں کامیاب نہیں ہو پاتی تھیں ۔ جام تما چی کی بیویوں نے نوری پر

 

 

 

الزام بھی لگایا اور اس بارے میں پنچابی کے مشہور شاعر شاہ عبد اللطیف بھٹائی خوبصورت طریقے سے لکھتے ہیں کہ ”
اردو ترجمہ یہ ہے : ،

 

 

” ہزاروں عیب وابستہ ہیں مجھ سے
میں ایک ملاح کی بیٹی ہوں پیارے
مجھے احساس ہے بے مائیگی کا
کہ مانند تن ما ہی ہوں پیارے
کہیں ایسا نہ ہو کہ پھر بے روحی ہو
خبر ہے تجھ کو جیسی بھی ہو پیارے
کہاں میں اور کہاں محلوں کی رانی
میں اس زمرے میں کب آتی ہوں پیارے ”

 

 

 

کچھ ہی سال بعد نوری کا انتقال ہو گیا تھا اور
اس کا انتقال جام تما چی کی زندگی میں ہی ہوا اور نوری کو کینجھر جھیل بہت زیادہ پسند تھی اور وہ اکثر جام تما چی کے ساتھ وہاں آیا کرتی تھی ،
جام تما چی نے اپنی بیوی کا مقبرہ اس جھیل کے وسط

 

 

 

میں بنوایا جو کہ ایک بہت ہی عمدہ فن تعمیر کا شا ہکار ہے ، نوری کی وفات کے بعد جام تما چی نے اپنی زیادہ تر زندگی اسی مقبرے پر گزار دی تھی اور جام تما چی کے انتقال کے بعد اسے بھی یہیں دفن کیا گیا
تھا اور ،

 

 

اس مقبرے کی یہ خاص بات ہے کہ یہ جب سے بنا ہے اسی جگہ موجود ہے اور کبھی ٹو ٹا نہیں ہے اور یہاں اسے عمارت کی طرح بہت ہی مضبوط تعمیر کروایا گیا ہے

 

 

 

، اور آج بھی اس مقبرے پر ہزاروں لوگ آتے ہیں فاتحہ خوانی کرتے ہیں، لیکن اس بارے میں پورے وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ کیا نوری اور جام تما چی کا واقعی میں ہی کوئی حقیقی وجود تھا یا وہ لوگ صرف شاہ عبد اللطیف بھٹائی کا تصور ہی تھے ۔

 

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *