تاج محل کے تہہ خانوں میں موجود بند کمروں میں کیا راز چھپے ہیں۔۔۔ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

پاکستان (نیوز اویل)، حال ہی میں میڈیا کی ایک ریاست میں میں ایک شخص نے عدالت میں درخواست دائر کی کے وہ تاج محل کے نیچے موجود 20 کے قریب بند کمروں کے دروازوں کھلوانا چاہتا ہے ، وہ شخص کا

 

 

Advertisement

 

کہنا تھا کہ وہ تاج محل کے ان کمروں میں موجود رازوں کو جاننا چاہتا ہے، ساتھ ہی ساتھ اس میں یہ دعوی کیا کہ کہ ان کمروں میں سے کسی ایک کمرے میں ان کے بھگوان شیو کا مندر ہے ۔ لیکن عدالت نے اس

 

 

 

 

شخص کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے اور اس تہہ خانوں کے کمرے میں جانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔
تاج محل کے بارے میں پراسرار حقائق موجود ہیں کیا تاج محل شاہجہان نے تعمیر کروایا تھا یا کسی اور نے ، کیا تاج محل لی تعمیر مکمل ہو جانے کے بعد اس کی

 

 

 

تعمیر میں حصہ لینے والے تمام معماروں کے ہاتھ کٹوا دیے گئے تھے اس بات میں کتنی حقیقت ہے ، اور پورا دن اس کے بدلتے رنگ کس چیز کی عکاسی کرتے ہیں ۔

 

 

 

 

ہندوستان میں موجود تاج محل کو دنیا میں مغل بادشاہ شاہ جہان کی ملکہ ممتاز بیگم سے محبت کا شاہکار سمجھا جاتا ہے جو شاہجہان نے آپ نے ملکہ کی یاد میں تعمیر کروایا تھا جو کہ دو تو میں بچے کو جنم دیتے

 

 

 

ہوئے ہوئے فوت ہو گئی تھی ۔ لیکن یہ ایک حیرت انگیز بات ہے کہ کچھ ہندو دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ گے ان کے دیوتا شیو کا مندر ہوا کرتا تھا۔

یہاں بھی مر د انہ برتری دیکھنے کو ملتی ہے کیونکہ تاج

 

 

محل میں دفن شاہ جہان کے مقبرے کا مینار ممتاز بیگم کے مقبرے کے مینار سے کافی بلند ہے تاج محل کے مینار اس طرز پر تعمیر کئے گئے ہیں کہ

 

 

 

 

زلزلے کے ممکنہ نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔ اس عجوبے سے منسلک یہ کہانی بھی مشہور ہے کہ تعمیر کے بعد شاہ جہاں نے تمام معماروں کے ہاتھ کاٹ دیئے تھے تاکہ اس شاہکار کی نقل نہ کی جاسکے۔

 

 

 

 

مورخین کا کہنا ہے کہ ہاتھ کاٹنے سے یہاں یہ مراد ہے کہ ان معماروں کو بعد میں کسی بھی عمارت کی تعمیر میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا۔
تاج محل کے رنگ سارا دن بدلتے رہتے ہیں اور یہ بدلتے

 

 

رنگ خواتین کے موڈ کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ صبح کے وقت گلابی، شام کو دودھیا سفید اور چاندنی رات کو سنہری دکھائی دیتا ہے ، غرض اس عمارت کو بڑی خوبصورتی سے بنایا گیا ہے ۔

 

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *