مشہور شاعر تلوک چند جب لاہور میں نور جہاں کے مقبرے پر گئے تو انہوں نے کیا انمول جملہ کہا تھا ؟ بڑے کام کی بات

پاکستان (نیوز اویل)، مشہور شاعر تلوک چند جب لاہور میں نور جہاں کے مقبرے پر گئے تو انہوں نے کیا انمول جملہ کہا تھا ؟ بڑے کام کی بات
۔

 

 

Advertisement

 

یہ بات اب تک قصہ پارینہ بن چکی ہے کہ اشرافیہ کو دفن بھی الگ قبرستان میں کیا جاتا تھا۔ جس طرح مصر میں اہرام مصر، جہاں فرعون دفن کیے جاتے تھے۔
مغل بادشاہ شاہجہان نے اپنی بیوی نور جہان کا مقبرہ تاج محل میں بنوایا۔ جب شاعر تلوک چند مقبرہ نور

 

 

 

جہاں پر گئے تو انہوں نے کہا
دن کو بھی یہاں شب کی سیاہی کا سماں ہے
کہتے ہیں کہ یہ آرام گہہ ِ نور جہاں ہے

 

 

پورے برصغیر میں ایسے بہت سے مقبرے موجود ہیں۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ لوگ ان مقبروں پر سیر کرنے کی غرض سے آتے ہیں۔

 

 

یہ مقبرے دراصل قبریں ہیں لیکن یہاں آنے والے یہاں فاتحہ خوانی بھی نہیں کرتے، کجا کہ وہ عبرت پکڑیں۔ اکثر اشرافیہ کے مقبروں کو لوگوں نے مزاروں کی شکل دے دی ہے۔ جیسے بھٹو کے مزار پر لوگ منت مانگنے کے لیے آتے ہیں۔

 

 

یہ تو اللہ کی قدرت ہے کہ جس کو چاہتا ہے، قائم رکھتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اس کا نام ونشان بھی اس صفحہ ہستی سے مٹا دیتا ہے۔

 

 

موت ایک تلخ حقیقت ہے اور ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ اپنے ہی ملک میں دفن ہونے کے لیے جگہ ملنا بھی ایک بڑی بات ہے ورنہ شہنشاہ ایران کو ایران میں دفن ہونے کے لیے بھی جگہ نہ ملی اور بہادر شاہ ظفر کو رنگون میں دفن کرنا پڑا۔

 

 

اشرفیہ کیا، اشرافیہ کے جانوروں کے مقبرے بھی موجود ہیں جیسے لاہور میں ہرن مینار۔
یہ مقبرے درحقیقت عبرت کا نشان ہیں لیکن ان سے کوئی عبرت پکڑتا نہیں۔ اشرافیہ کی آنکھوں پر دولت

 

 

کی ایسی پٹی بندھی ہے کہ وہ دن بدن امیر سے امیر ہونے کی دھن میں لگے ہیں۔ جس کے نتیجے میں غریب عوام غریب سے غریب تر ہوتی جا رہی ہے۔

 

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *